ہلاکو خان کے حملوں کے بعد  اور عباسی  دور کے خاتمے پر اسلامی علوم مغرب کی طرف منتقل ہو گئے۔مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تحقیقات اور ا نکشافات کے بعد جو احتراعات سامنے لائی تھیں وہ مغربی سائنسدانوں اور علمائ  کے لیے خام مال کی حیثیت سے میسر آئیں۔ اسی طرح سپین میں مسلمانوں نے ہر علمی پہلو پر تحقیق کی اور انکے زوال کے بعد پورے علمی دفاتر  عیسائیوں کے ہاتھ آگئے۔مسلم سپین کے اموی خلفائ نے جو کتب خانے اور درسگاہیں تعمیر کیں وہ عیسائیوں کے لیے مال غنیمت کے طور پر رہ گئیں۔  عباسی خلفائ کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں سرزمین فلسطین صلیبی جنگوں کی وجہ سے یورپی عیسائی  ا پنی فتوحات کے ساتھ ساتھ بہت سارے علمی خزانہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔صلیبی جنگوں میں سرزمین فلسطین پر کئی بار عیسائی حملوں کے بعد اسلامی علوم و فنون اسلامی  دنیا سے نکل کر مغرب پہنچے۔ مغرب والوں نے ان علوم  سے استفادہ کیا اور اس علم کو آگے بڑھایا۔

Read More

Advertisements